زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

معراج فیض آبادی

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

معراج فیض آبادی

MORE BY معراج فیض آبادی

    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

    پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا

    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا

    میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن

    اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں انہیں گھر بھی دینا

    ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے

    اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY