زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ

مشتاق نقوی

زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ

مشتاق نقوی

MORE BYمشتاق نقوی

    زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ

    اے زمین آسمان ہیں ہم لوگ

    روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں

    کس قدر سخت جان ہیں ہم لوگ

    زندگی مسکرا تو دے اک بار

    ایک شب میہمان ہیں ہم لوگ

    صورتیں دھول ہو چکی ہیں مگر

    حسن کے پاسبان ہیں ہم لوگ

    خود سے ملتے ہیں دشمنوں کی طرح

    غیر پر مہربان ہیں ہم لوگ

    اک یہی درد تو ملا ہے ہمیں

    شعر و نغمہ کی جان ہیں ہم لوگ

    شاخ گل میں جو ہم لچک جائیں

    کھنچ گئے تو کمان ہیں ہم لوگ

    ہم سے ملتا ہے منزلوں کا پتہ

    اور خود بے نشان ہیں ہم لوگ

    اب بھی لپٹے ہیں تیری ٹھوکر سے

    زندگی تیری آن ہیں ہم لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY