زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

شوکت پردیسی

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

    میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے

    لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی

    اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے

    تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ٹلتا رہا

    شام آتی رہی دل دھڑکتا رہا ہم چراغ محبت جلاتے رہے

    ایک تم ہی نہ تھے ورنہ ہر چیز تھی چاند کے ساتھ تھی رات کی دل کشی

    ساز بجتا رہا لے ابھرتی رہی رقص ہوتا رہا لوگ گاتے رہے

    یوں نہ کوئی جیے جس طرح ہم جیے زندگی بھر کسی کو نہ اپنا سکے

    بے وفائی مرا دل جلاتی رہی پیار کے نام پر چوٹ کھاتے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY