زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا

کرشن موہن

زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا

کرشن موہن

MORE BYکرشن موہن

    زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا

    ایک دن اتنا ہنسا وہ ہنستے ہنستے مر گیا

    بجھ گیا احساس طاری ہے سکوت بے حسی

    درد کا دفتر گیا سامان شور و شر گیا

    شخص معمولی مرا جو مال وافر چھوڑ کر

    مرتے مرتے تہمتیں چند اپنے ذمے دھر گیا

    اس قدر سنجیدہ تھا وہ دفعتاً بوڑھا ہوا

    اور پھر اک دوپہر بیوی کو بیوہ کر گیا

    دور درشن پر طرب آگیں تماشا دیکھ کر

    خوش ہوا وہ اس قدر مارے خوشی کے مر گیا

    در حقیقت موت کا مطلب تو ہے نقل مکاں

    جس طرح کمرے کے اندر سے کوئی باہر گیا

    کرشن موہنؔ یہ بھی ہے کیسا اکیلا پن کہ لوگ

    موت سے ڈرتے ہیں میں تو زندگی سے ڈر گیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY