زندگی تیری طلب تھی تو زمانے دیکھے

عرفان احمد میر

زندگی تیری طلب تھی تو زمانے دیکھے

عرفان احمد میر

MORE BYعرفان احمد میر

    زندگی تیری طلب تھی تو زمانے دیکھے

    مرتے مرتے کئی جینے کے بہانے دیکھے

    حوصلہ تھا یا کرم ہو کہ وفاداری ہو

    ہم نے الفت میں کئی خواب سہانے دیکھے

    آنکھ سے جاری رہا اشکوں کا بہنا کیونکر

    غم نے ٹھکرایا تو پھر زخم پرانے دیکھے

    زخم پر زخم لگانے کی نہ عادت تھی اسے

    میرے قاتل نے نئے روز نشانے دیکھے

    آپ کا جرم نہیں ہم ہی خطا کر بیٹھے

    دل نے بس چاہا تمہیں غم نے ٹھکانے دیکھے

    ہم پہ الفت کی ہوئی ایسی عطائیں بالغؔ

    جس طرف ڈھونڈ لئے غم کے خزانے دیکھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY