ضیائے صبح تبسم کی آرزو نہ کرو

ناظم سلطانپوری

ضیائے صبح تبسم کی آرزو نہ کرو

ناظم سلطانپوری

MORE BYناظم سلطانپوری

    ضیائے صبح تبسم کی آرزو نہ کرو

    کہ تاک میں ابھی تیرہ شبی ہے بے خبرو

    سما سکیں گے نہ بکھرے ہوئے حسیں جلوے

    حصار چشم ابھی اور کچھ کشادہ کرو

    جو پڑھ سکو تو یہ خاموش و بد نما چہرے

    خود اپنے وقت کی تاریخ بھی ہیں دیدہ ورو

    خوشی کی دھوپ میں جلتا ہے زندگی کا بدن

    غم لطیف کے سائے کہاں ہمیں ہم سفرو

    رخ حیات پہ رقصاں ہے جو خوشی کی طرح

    وہ سوز عشق کی ادنیٰ کرن ہے بے بصرو

    ہمیں سے صبح بنارس ہمیں سے شام اودھ

    ہمیں سے دلی کی گلیاں حسیں تھیں تاج ورو

    گواہی دیتے ہیں تاریخ عہد کے صفحے

    یہ اور بات ہے اب تم نہ اعتراف کرو

    خزاں کو رنگ بہاراں جو دے سکو ناظمؔ

    کبھی بہار گریزاں کی جستجو نہ کرو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY