چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں

جون ایلیا

چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    دلچسپ معلومات

    معروف طبیب حکیم محمد سعید کے سانحہ پر ملال پر جون ایلیا نے ایک مرثیہ لکھا تھا ، جس کے کچھ شعر یہاں پر درج ہیں

    چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں

    چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں

    پھر یہ بیمار کس کے گھر جائیں

    آج کا غم بڑی قیامت ہے

    آج سب نقش غم ابھر جائیں

    ہے بہاروں کی روح سوگ نشیں

    سارے اوراق گل بکھر جائیں

    ناز پروردہ بے نوا مجبور

    جانے والے یہ سب کدھر جائیں

    کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ

    کاش اس رات ہم بھی مر جائیں

    ہے شب ماتم مسیحائی

    اشک دامن میں تا سحر جائیں

    مرنے والے ترے جنازے میں

    کیا فقط ہم بہ چشم تر جائیں

    کاش دل خون ہو کے بہہ جائے

    کاش آنکھیں لہو میں بھر جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY