آخری گالی

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    پھر وہی چھیڑیں پیار کی باتیں آپ نہیں باز آئیں گے

    دیکھیے ہم اٹھ کر چل دیں گے آپ نہیں گر جائیں گے

    قوس قزح چولھے میں جائے کالی گھٹا کو آگ لگے

    کیا ہم دیکھ نہیں سکتے ہیں آپ ہمیں دکھلائیں گے

    آنکھیں ہماری اچھی ہیں تو آپ کو ان سے کیا مطلب

    جیسی بھی ہیں آپ اب ان کے پیچھے ہی پڑ جائیں گے؟

    بری بری نظریں چہرے پر ڈال رہے ہیں اف توبہ

    ہم اپنے دونوں گالوں کو جا کے ابھی دھو آئیں گے

    اتنے لمبے لمبے خط ہم کیسے پڑھیں ہائے اللہ

    جب بھی آئیں گے ساتھ اپنے کوئی مصیبت لائیں گے

    ہم پر آپ نے نظمیں لکھ دیں اس پہ بھی ہم خاموش رہے

    نظموں کے بعد آپ تو ہم پر نثر بھی اب چپکائیں گے

    یہ جھمکے، یہ سینٹ، یہ نظمیں عشق کا سب ساز و ساماں

    اب واپس لے جائیے صاحب بس میں نہیں ہم آئیں گے

    ہم کہتے ہیں شہر میں ہوں گی نو سو لڑکیاں کم سے کم

    یہ کیا ضد ہے پیار کی مالا ہم ہی کو پنہائیں گے

    کر لیجے رضیہؔ سے محبت ہم پر کیجے نظر کرم

    وہ بے چاری پھنس جائے گی ہم اس کو سمجھائیں گے

    عظمت بھی اچھی خاصی ہے اس سے لڑا لیجے آنکھیں

    آپ اس بندی کی خاطر کب تک زحمت فرمائیں گے

    خالدؔ صاحب آتے ہیں تو کیسے کہیں ہم مت آؤ

    آتے ہیں تو ہم کیوں روکیں کھا تو نہیں وہ جائیں گے

    دیکھیے ہاتھ لگایا تو ہم ڈر کر شور مچا دیں گے

    امی ابا پھپھو، خالہ دوڑ کے سب آ جائیں گے

    پہلے ہم کو بہن کہا اب فکر ہمیں سے شادی کی

    یہ بھی نہ سوچا بہن سے شادی کر کے کیا کہلائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY