بک رہا ہوں آج کل ہذیان باقی خیر ہے

سید فہیم الدین

بک رہا ہوں آج کل ہذیان باقی خیر ہے

سید فہیم الدین

MORE BYسید فہیم الدین

    بک رہا ہوں آج کل ہذیان باقی خیر ہے

    اور لاحق ہے ذرا نسیان باقی خیر ہے

    کار میرے یار کی تھی اور پھر چوری کی تھی

    ہو گیا ہے چوک میں چالان باقی خیر ہے

    گھاس بھی اگتی نہیں ہے بال بھی اگتے نہیں

    بن گیا ہے سر مرا میدان باقی خیر ہے

    فکر کی تو بات کوئی بھی نہیں ہے جان جاں

    گھر میں ہیں بس درجنوں مہمان باقی خیر ہے

    ایک عرصہ ہو گیا ہے رات دن تھانے میں ہوں

    اور چھٹنے کا نہیں امکان باقی خیر ہے

    جس کا بنگلہ دیکھ کر گھر بار کو چھوڑا گیا

    وہ تو یکسر ہو گئی انجان باقی خیر ہے

    بہہ رہی ہے رات بھر سے ناک سر میں درد ہے

    اور کچھ سنتے نہیں ہیں کان باقی خیر ہے

    سال سے ہے ساس میری ڈاکوؤں کی قید میں

    مانگتے ہیں وہ بڑا تاوان باقی خیر ہے

    ہے ذرا خارش سی دادا جان کو لقوہ بھی ہے

    اور ہیں بیمار دادی جان باقی خیر ہے

    کل سے ہے بچی کو ہیضہ اور بچے کو بخار

    سب سے چھوٹے کو ہوا یرقان باقی خیر ہے

    بات اب تشویش کی کوئی نہیں ایسی فہیمؔ

    دور تک ملتا نہیں انسان باقی خیر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY