لائل پور کے مچھر

ظریف جبلپوری

لائل پور کے مچھر

ظریف جبلپوری

MORE BYظریف جبلپوری

    یہ لائل پور کے مچھر جو مل والوں نے پالے ہیں

    بہادر سورما ساونت تگڑے اور جیالے ہیں

    منظم طور سے مہماں پہ شب خوں مارنے والے

    یہ وہ ہیں جو نہیں کونین سے بھی ہارنے والے

    فلٹ چھڑکے ہوئے کمروں میں بھی تن تن کے آتے ہیں

    وہ سب مل کر خوشی میں فتح کے باجے بجاتے تھے

    کبھی وہ چارپائی پر کبھی وہ فرش پر بیٹھے

    دماغ اونچا ہوا اتنا کہ اڑ کر عرشؔ پر بیٹھے

    کسی مچھر نے بڑھ کر حضرت مخمورؔ کو کاٹا

    خمار اترا تو چھایا عالم ہستی میں سناٹا

    کبھی راغب سے رغبت کی کبھی ساحل پہ آ بیٹھے

    ثواب حج کی خاطر مولوی ماہرؔ پہ جا بیٹھے

    کبھی آزادؔ کو چکھا کبھی احسانؔ کو چاٹا

    ستم یہ ہے کہ مجھ سے صاحب ایمان کو کاٹا

    میاں سید محمد جعفری کی غیر حالت تھی

    جو منہ کھولا گھسے منہ میں لحاف اوڑھا تو شامت تھی

    کہا اخترؔ سے پنڈت جی ہمارا بھی بھجن سن لو

    بہت ہی مختصر ہے قصۂ دار و رسن سن لو

    بہت تنگ آ گئے جب مچھروں کی ڈنک ماری سے

    تو سب شاعر تڑپ اٹھے نہایت بے قراری سے

    کمیٹی کر کے آپس میں یہی اک بات طے پائی

    جوابی حملہ ان پر ہو بصد صبر و شکیبائی

    بہت ہشیار ہوکر ان سے لڑنے کی جو باری ہے

    کہیں سب شاعروں اور مچھروں کی جنگ جاری ہے

    کبھی تالی بجاتے تھے کبھی وہ سر کھجاتے تھے

    وہ گھبراہٹ میں مل کر ایک ہی مصرعہ یہ گاتے تھے

    ذرا سی جان کی چنگیز خانی دیکھتے جاؤ

    اب اٹھا چاہتی ہے لاش فانیؔ دیکھتے جاؤ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY