مغز شاعر

ساغر خیامی

مغز شاعر

ساغر خیامی

MORE BYساغر خیامی

    اک روز ڈاکٹر سے یہ میں نے کہا جناب

    مدت سے کہہ رہا ہوں میں نظمیں بہت خراب

    چیک کر کے میری کھوپڑی کہنے لگا حضور

    بھیجے میں گھس گیا ہے کوئی آپ کے فتور

    بولا بدلنا ہوگا یہ بھیجا حضور کا

    بس ہے یہی علاج دماغی فتور کا

    میں نے کہا دماغ کہاں اور کہاں حقیر

    بولا کہ دان مانگیے پھر دیکھیے شریر

    میں نے کہا کہ ایسا ہی ویسا چلے گا کیا

    بولا کہ شاعرانہ ہو کیڑا دماغ کا

    پہلے تو ایک شاعر اعظم سے میں ملا

    بربادئ دماغ کا ان سے کیا گلا

    میں نے کہا کہ مجھ پہ کرم کیجئے جناب

    تھوڑا سا مغز مجھ کو عنایت کریں شتاب

    بولے ہمارا بیٹھ کے بھیجا نہ کھائیے

    اڑیے یہاں سے اور کہیں سیٹی بجائیے

    اردو ادب میں جو بھی ہمارا مقام ہے

    استاد محترم کے وہ بھیجے کا کام ہے

    محروم مغز ایک دکاں پر گئے جو ہم

    آئے نظر دکان پہ بھیجے کئی بہم

    کچھ سرپھرے دماغ حسیں لڑکیوں کے تھے

    بک بک جو کر رہے تھے وہ سب بیویوں کے تھے

    انگلینڈ کا دماغ کوئی قاہرہ کا تھا

    چغلی جو کر رہا تھا کسی شاعرہ کا تھا

    عاشق مزاج کام نہ لے کر برین سے

    بھیجے لڑا رہے تھے ہر اک عین غین سے

    فولاد کے قفس میں وہ سارے اسیر تھے

    بھیجے فسادیوں کے وہاں پر کثیر تھے

    میں نے کہا برین کوئی عاشقانہ دے

    جلدی سے اک دماغ مجھے شاعرانہ دے

    دکھلا کے اک دماغ وہ کہنے لگا جناب

    رگ رگ میں ہیں پھنسے ہوئے اشعار بے حساب

    بھیجا مہک رہا ہے زمانے کی داد سے

    لبریز ہے دماغ غزل کے مواد سے

    میں نے کہا یہ مکھیاں کیوں بھن بھنائے ہیں

    بولا نئی غزل پہ نئی دھن بٹھائے ہیں

    میں نے کہا کہ دام بتائیں مجھے شتاب

    بولا دماغ ٹھیک ہے اور دام ہیں خراب

    بھیجے مری دکان پہ سب آنہ پائی ہیں

    شاعر کے بس دماغ کے پیسے بھی ہائی ہیں

    میں نے کہا کہ کھول دے یہ راز تو نہاں

    شاعر کے کیوں دماغ کے پیسے کیے گراں

    بولا کبھی کبھار یہ بکتا ہے کیا کریں

    سو پھوڑیے تو ایک نکلتا ہے کیا کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY