نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں

احمق پھپھوندوی

نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں

احمق پھپھوندوی

MORE BYاحمق پھپھوندوی

    نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں

    کہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میں

    پچہتر لاکھ اک بیکار مد میں صرف کر دیں گے

    رعایا کے لئے کوڑی نہیں جن کے خزانے میں

    جو ارزاں ہے تو ہے ان کی متاع آبرو ورنہ

    ذرا سی چیز بھی بے حد گراں ہے اس زمانے میں

    جفا و ظلم نصب العین ہوگا جس حکومت کا

    یقیناً خاک ہو جائے گی وہ تھوڑے زمانے میں

    وہ اک روٹی جو ہم کو برہمن مشکل سے دیتا ہے

    ہزاروں بت ہوا کرتے ہیں اس کے دانے دانے میں

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahekar Mazahiya Shayari (Pg. 9)
    • Author : Roohi Kanjahi
    • مطبع : Alhamd Publications (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY