نثری نظم

عاصی رضوی

نثری نظم

عاصی رضوی

MORE BYعاصی رضوی

    نثر ابا نظم اماں دونوں کو انکار ہے

    یہ جو نثری نظم ہے یہ کس کی پیدا وار ہے

    صرف لفاظی پہ مبنی ہے یہ تجریدی کلام

    جس میں عنقا ہیں معانی لفظ پردہ دار ہے

    نثر ہے گر نثر تو وہ نظم ہو سکتی نہیں

    نظم جو ہو نثر کی مانند وہ بیکار ہے

    قافیے کی کوئی پابندی نہ ہے قید ردیف

    بے در و دیوار کا یہ گھر بھی کیا پرکار ہے

    بحر سے آزاد قید وزن سے ہے بے نیاز

    واہ کیا مادر پدر آزاد یہ دل دار ہے

    مرتبے میں میرؔ و مومنؔ سے ہے ہر کوئی بلند

    ان میں ہر بے بحر غالب سے بڑا فن کار ہے

    جس کے چمچے جتنے زیادہ ہوں وہ اتنا ہی عظیم

    آج کل مصرع اٹھانا ایک کاروبار ہے

    داد صرف اپنوں کو دیتے ہیں گروہ اندر گروہ

    ان کے ٹولے سے جو باہر ہو گیا مردار ہے

    بن گیا استاد و علامہ یہاں ہر بے شعور

    کور چشم اہل نظر ہونے کا دعویدار ہے

    شاعری جز شاعری ہے ہے ذرا محنت طلب

    اور محنت ہی وہ شے ہے جس سے ان کو عار ہے

    پاپ میوزک کے لیے موزوں ہے نثری شاعری

    ہر روایت سے بغاوت کی یہ دعویدار ہے

    طبع موزوں گر نہ بخشی ہو خدا نے آپ کو

    شاعری کیوں کیجے آخر کیا خدا کی مار ہے

    داد دینا ایسی نظموں کو بڑی بے داد ہے

    جو نہ سمجھا اور کہے سمجھا بڑا مکار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY