نو منزلہ بلڈنگ

اسد محمد خاں

نو منزلہ بلڈنگ

اسد محمد خاں

MORE BYاسد محمد خاں

    زمیں کا رقص پیہم سرد لوہے کی نکیلی کیل، زنجیر کشش، شانے

    اور اک نو منزلہ بلڈنگ

    اور اس نو منزلہ بلڈنگ کو اپنے ناتواں شانوں کی باقی ماندہ قوت سے سنبھالے

    اس فسردہ شہر کی سب سے بڑی فٹ پاتھ پر ٹانگیں پسارے

    ہر گزرتے واہمے کو تکنے والا میں

    یہ برفیلی ہوا تھی یا کوئی لمحہ

    صبا رفتار لمحہ برق دم لمحہ

    جو میری انگلیوں کے درمیاں سے خواب کی مانند گزرا

    کیا مرور وقت جاری ہے؟

    مرے لاغر بدن میں کون ناخن گاڑتا ہے؟

    کیوں زمیں یخ بستہ زنبوروں میں میرے پانو جکڑے ہے

    میں آخر کون ہوں؟ میں کون ہوں؟ اور نام....

    میرا نام کیا ہے؟ کیا میں زندہ ہوں؟

    میں زندہ ہوں میں زندہ ہوں میں اپنی چیخ سن سکتا ہوں

    ''اک پل کے لیے ٹھہرو بس اک پل کے لیے ٹھہرو

    کہ اس نو منزلہ بلڈنگ سے اپنے ناتواں شانوں کو میں آزاد تو کر لوں''

    میں کہتا ہوں میں سنتا ہوں

    مگر وہ گریز پا لمحہ ہوا کے دوش پر اڑتا چلا جاتا ہے یہ نو منزلہ بلڈنگ

    مرے مالک میں تنہا ہوں میں تنہا ہوں

    مری جانب بڑے بے رحم سناٹوں میں لپٹی شام بڑھتی آ رہی ہے میں گرا جاتا ہوں

    بولو! کیا میں لمحوں کی ایالیں اپنی مٹھی میں جکڑ لوں؟

    کیا میں اس نو منزلہ بلڈنگ کو اپنے ناتواں شانوں سے نیچے پھینک دوں

    اٹھ کر کھڑا ہو جاؤں

    مگر میں نے....

    مگر میں نے تو اس نو منزلہ بلڈنگ کی خاطر ناخنوں سے نیو کھودی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY