حسن_حادثہ
تماشا گر خدا نہیں مگر وہ جانتا ہے کپکپاہٹوں کے دام
سسکیوں کا اہتمام
اور صبر کا نظام
سو اگر تماش بین کرسیوں کے درمیاں کہیں
سہارا ڈھونڈنے لگیں تو وہ
بغل سے ایک حادثہ نکال کر اچھال دیتا ہے
تماش بین دل جگر تمام
تھام کر
نظر سے اضطراب پونچھ لیتے ہیں
کہانی چل نکلتی ہے
کہانیوں کے بیچ حادثہ سمندری جہاز کی طرح بکھر بکھر کے چلتا ہے
عجب نہیں یہ دفتر کائنات کا چلن
تماشا گر کا پیٹ حادثوں سے پلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.