میں
دن میرے خوابوں سے زیادہ روشن نہیں
میں اپنا پورا دن چال بازیوں میں گزار دیتا ہوں
اور دن کی روشنی
پاؤں سے مٹی کی طرح جھاڑ کر
رات کے سامنے اپنے پتے شو کر دیتا ہوں
رات کے سامنے کوئی چالاکی نہیں کرنی چاہیئے
میں اپنی غلطیوں کے دائرے نہیں بناتا
اس عمر کی غلطیوں پہ پچھتاوا نہیں کرنا چاہیئے
میں زمینوں اور زمانوں سے آگے کی لکیریں کھینچتا ہوں
جو راستوں میں بدل جاتی ہیں
اور میں نکل جاتا ہوں
اپنے گھر سے
اپنے باپ کی نظروں سے
اور قہقہہ لگا کر گزرتا ہوں ان کے سامنے سے
جو میری موت کی وجہ بنیں گے
موت سے مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں
موت کے سامنے میں نظمیں لکھتا ہوں
اور خاموش رہتا ہوں
گر میں نظم نگار نہ ہوتا تو یقیناً ایک قاتل ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.