چالیسواں دن

زبیر رضوی

چالیسواں دن

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    پرانی بات ہے

    لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے

    عجب وہ وقت تھا

    چاروں طرف جسموں کی دلدل تھی

    برہنہ مرد وزن

    ریتیلے ساحل پر پڑے

    اک دوسرے کو چومتے رہے

    کسی لب پر نہ تھی حمد و ثنا

    اور انگلیاں

    تسبیح کے دانوں کو سعیٔ رائیگاں گنتیں

    خدا برہم ہوا

    اس نے سمندر کی تہوں میں آگ روشن کی

    سمندر کھول کر لاوا بنا

    اور ساحلوں کو کاٹ کر نکلا

    ہر اک جانب سمندر ہی سمندر تھا

    کوئی آدم نہ آدم زاد باقی تھا

    بس اک کشتی تھی سطح آب پر

    جس کو کوئی ساحل نہ ملتا تھا

    وہ دن چالیسواں تھا

    جب خدا نے مہربانی کی

    سمندر کو سمیٹا

    ساحلوں کی ریت چمکائی

    وہ پہلی صبح تھی

    جب سب کے ہونٹوں پر

    خدا کی حمد تھی

    تسبیح کے دانے چمکتے تھے

    مآخذ:

    • کتاب : purani baat hai (Pg. 35)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY