۱۵ اگست (۱۹۴۹ء)

عرش ملسیانی

۱۵ اگست (۱۹۴۹ء)

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    جب خورشید آزادی کی پھوٹی تھی کرن وہ دن آیا

    چمکے تھے ضیائے خاص سے جب کہسار و دمن وہ دن آیا

    جب قید قفس سے چھوٹے تھے مرغان چمن وہ دن آیا

    بے تیغ و سناں جب بدلی تھی تقدیر وطن وہ دن آیا

    ہنگام طرب ہے اہل وطن ہنگام طرب ہے غم نہ کرو

    آہستہ روی ہی منزل ہے منزل کا یوں ہی ماتم نہ کرو

    بیمار وطن نے پائی ہے مشکل سے دوائے آزادی

    کانوں کو سنائی دیتی ہے ہر سمت ندائے آزادی

    ہر خورد و کلاں ہر پیر و جواں ہے آج ندائے آزادی

    یہ کوشش سب پر لازم ہے دائم ہو بقائے آزادی

    آزادی نو مولود کو اب پروان چڑھاؤ تو جانیں

    مشکل ہے بڑی اس مشکل کو آسان بناؤ تو جانیں

    اغیار کی تعلیمات پہ تو سر دھننا کار طفلاں ہے

    آوارہ مزاجی کے صدقے آوارہ مزاجی آساں ہے

    رہ پر خار عمل میں جو پا مرد رہے وہ انساں ہے

    ساحل سے اسے کچھ کام نہیں جو واقف عشرت طوفاں ہے

    اس یوم مبارک پر مل کر جے ہند پکارو اہل وطن

    جو جذبۂ خدمت سست ہے اب پھر اس کو ابھارو اہل وطن

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 417)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Hujwiri Publisher H. 811, A Androon, Akbari Gate, Lahore

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY