حاجی بابا

زبیر رضوی

حاجی بابا

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    پرانی بات ہے

    لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے

    سنا ہے جب کبھی شہر سبا کے حاجی بابا

    اپنے شاگردوں کو درس آخری دیتے

    سروں پر ان کے دستار فضیلت باندھتے

    کالے عماموں میں سب ہی شاگرد صف بستہ کھڑے

    یہ عہد کرتے تھے

    خداوندا

    ہمارے علم میں تو خیروبرکت دے

    ہمیں توفیق دے ہم حاجی بابا کی طرح

    شہر سبا کے چار کونوں میں نئے مکتب بنائیں

    درس گاہوں کی بنا ڈالیں

    سنا ہے حاجی بابا

    اپنے شاگردوں کو چار حصوں میں جب تقسیم کرتے تو

    زمیں کے چار کونوں سے صدائے مرحبا آتی

    ہر اک سو

    مشک کی خوشبو فضا میں پھیل سی جاتی

    بہت دن بعد پھر ایسا ہوا تھا حاجی بابا نے

    زمیں کے چار کونوں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا

    جلے حرفوں کی روح ماتم کناں

    شہر سبا میں مدتوں پھرتی رہی تنہا

    سنا ہے پھر کبھی

    شہر سبا کے حاجی بابا نے در مکتب نہیں کھولا

    کسی پر کوئی کالا عمامہ پھر نہیں باندھا

    مآخذ:

    • کتاب : Sang-ge-Sada (Pg. 80)
    • Author : Zubair Razvi
    • مطبع : Zehne Jadid, New Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY