ایک رات سفید گلابوں والے تالاب کے پاس

تبسم کاشمیری

ایک رات سفید گلابوں والے تالاب کے پاس

تبسم کاشمیری

MORE BY تبسم کاشمیری

    وہ ایک شب تھی سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیک

    بادلوں کی پہلی آہٹ پر

    اس نے رکھ دیے ہونٹ ہونٹوں پر

    موسیقی کی تتلی گیت گانے لگی

    اس کے سانسوں کے آس پاس

    اس کی خوشبوؤں کے گھنگھرو

    بج رہے تھے اس شب

    ہوا کی سفید گلابی چھتوں پر

    وہ امڈ رہی تھی

    ایک تیز سمندری لہر کی طرح

    وہ جسم پر نقش ہو رہی تھی

    تتلیوں سے بھرے ہوئے ایک خواب کی طرح

    وہ ایک شب سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیک

    شب بھر بادلوں کی ہلکی اور تیز آہٹیں

    اور شب بھر

    ہونٹ ہونٹوں پر

    سانس سانسوں پر

    اور جسم جسم کی سفید گلابی چھتوں پر

    مآخذ:

    • کتاب : Prindey,phool taalab (Pg. 437)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY