آگ کے پاس

ن م راشد

آگ کے پاس

ن م راشد

MORE BYن م راشد

    پیر واماندہ کوئی

    کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں

    نوجواں بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں

    اک رقابت کی سیہ لہر بہت تیز

    مرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہے

    جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گل داں کی

    مس و سیم کے کاسوں کی چمک

    اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے

    کوئلے آگ میں جلتے ہوئے

    کن یادوں کی کس رات میں

    جل جاتے ہیں

    کیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاں

    سالہا سال یہ آسودہ رہے

    انہی بے آب درختوں کے وہ جنگل

    جنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھی

    کوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں

    آج شب بھی وہ بڑی دیر سے

    گھر لوٹا ہے

    اس کے الفاظ کو

    ان رنگوں سے آوازوں سے کیا ربط

    جو اس غم زدہ گھر کے خس و خاشاک میں ہیں

    اس کو اس میز پر بکھری ہوئی

    خوشبوؤں کے جنگل سے غرض

    آج بھی اپنے عقیدے پہ بدستور

    بضد قائم ہے

    وہ درختوں کے تنومند تنے

    اپنے آئندہ کے خوابوں میں اسیر

    گرد باد آ ہی گئے

    ان کی رہائی کا وسیلہ بن کر

    خود سے مہجورئ ناگاہ کا حیلہ بن کر

    آئے اور چل بھی دیے

    طول المناک کی دہلیز پہ

    رخصت کہہ کر

    اور وہ لاکھوں برس سوچ میں

    آئندہ کے موہوم میں خوابیدہ رہے

    میرے بیٹے تجھے کچھ یاد بھی ہے

    میں نے بھی شور مچایا تھا کبھی

    خاک کے بگڑے ہوئے چہرے کے خلاف

    لحن بے رنگ ہوا سن کے

    مری جاں بھی پکار اٹھی تھی

    میں کبھی ایک انا اور کبھی دو کا سہارا لیتا

    اپنی ساتھی سے میں کہہ اٹھتا کہ جاگو اے جان

    ہرانا تیرہ بیاباں میں

    بھٹکتے ہوئے پتوں کا ہجوم

    میرا ڈر مجھ کو نگل جائے گا

    میرے کانوں میں مرے کرب کی آواز

    پلٹ آتی تھی

    تجھے بے کار خداؤں پہ یقیں

    اب بھی نہیں

    اب بھی نہیں

    آج بھی اپنے ہی الحاد کی کرسی میں

    پڑا اونگھتا ہوں

    نوجواں بیٹے کے الفاظ پہ چونک اٹھتا ہوں

    تو نے بیٹے

    یہ عجب خواب سنایا ہے مجھے

    اپنا یہ خواب کسی اور سے ہرگز نہ کہو

    کبھی آہستہ سے دروازہ جو کھلتا ہے تو ہنس دیتا ہوں

    یہ بھی اس بات کی صرصر کی

    نئی چال نیا دھوکا ہے

    پھول یا پریاں بنانے کا کوئی نسخہ

    مرے پاس نہیں ہے بیٹے

    مجھے فرداؤں کے صحرا سے بھی

    افسون روایت کی لہک آتی ہے

    آگ میں کوئلے بجھنے کی تمنا نہ کرو

    ان سے آئندہ کے مٹتے ہوئے آثار

    ابھر آئیں گے

    ان گزرتے ہوئے لمحات کی تنہائی میں

    کیسا یہ خواب سنایا ہے مجھے تو نے ابھی

    نہیں ہر ایک سے

    ہر ایک سے یہ خواب کہو

    اس سے جاگ اٹھتا ہے

    سویا ہوا مجذوب

    مری آگ کے پاس

    ایسے مجذوب کو اک خواب بہت

    خواب بہت خواب بہت

    ایسے ہر مست کو

    اک خواب بہت

    مآخذ
    • کتاب : Kulliat-e-Rashid (Pg. 408)
    • Author : Noon Meem Rashid
    • مطبع : Kitabi Duniya, Delhi-6 (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY