آمد سال نو اور بد نصیب ہندی

آفتاب رئیس پانی پتی

آمد سال نو اور بد نصیب ہندی

آفتاب رئیس پانی پتی

MORE BYآفتاب رئیس پانی پتی

    آمد ہے سال نو کی سماں ہے بہار کا

    سرسبز گلستاں ہے دل داغدار کا

    عشق وطن میں عاشق صادق ہے جاں بہ لب

    کیا حال پوچھتے ہو غریب الدیار کا

    یا رب کہیں گے کس طرح ہم بیکسوں کے دن

    یاد آیا ہے قفس میں زمانہ بہار کا

    یوں اشک غم ٹپکتے ہیں آنکھوں سے قوم کی

    ممکن نہیں ہے ٹوٹنا اشکوں کے تار کا

    اک بار قتل عام کرو تیغ ظلم سے

    اچھا نہیں ہے جور و ستم بار بار کا

    اے مادر وطن کے سپوتو بڑھے چلو

    یہ آج ہو رہا ہے اشارہ بہار کا

    قاتل کو ناز قوت بازو پہ ہے اگر

    مظلوم کو بھروسا ہے پروردگار کا

    اے مادر وطن ذرا دست دعا اٹھا

    مقتل میں امتحاں ہے ترے غم گسار کا

    گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے دم بدم

    کیا اعتبار غیر کے قول و قرار کا

    اغیار سے کرم کی توقع فضول ہے

    عرصہ گزر چکا ہے بہت انتظار کا

    اے آفتابؔ دہر کا شکوہ ہے کیوں تجھے

    ہوتا نہیں ہے کوئی دل بے قرار کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY