ابھی تو میں جوان ہوں

اختر پیامی

ابھی تو میں جوان ہوں

اختر پیامی

MORE BYاختر پیامی

    ابھی تو میں جوان ہوں

    جوان ہو تو زندگی کی نبض گدگدا تو دو

    جوان ہو تو وقت کی سیاہیاں مٹا تو دو

    یہ آگ لگ رہی ہے کیوں اسے ذرا بجھا تو دو

    ابھی تو میں جوان ہوں

    جوان ہو تو آندھیوں سے ڈر رہے ہو کس لئے

    جوان ہو تو بے کسی سے مر رہے ہو کس لئے

    عروس نو کی طرح تم سنور رہے ہو کس لئے

    ابھی تو میں جوان ہوں

    جوان ہو تو شیشہ و شراب زندگی نہیں

    جوان ہو تو زندگی میں صرف اک ہنسی نہیں

    فلک پہ بدلیاں بھی ہیں فلک پہ چاندنی نہیں

    ابھی تو میں جوان ہوں

    جوان ہو تو ہو گئے ہو زندگی پہ بار کیوں

    جوان ہو تو در ہی سے پلٹ گئی بہار کیوں

    دماغ حسرتوں کا ہے بنا ہوا مزار کیوں

    ابھی تو میں جوان ہوں

    جوان ہو تو زندگی سے کام لے کے بڑھ چلو

    جوان ہو تو حریت کا نام لے کے بڑھ چلو

    دیار انقلاب کا پیام لے کے بڑھ چلو

    مأخذ :
    • کتاب : Aina Khane (Pg. 85)
    • Author : Akhtar payami
    • مطبع : Zain Publications (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY