افسانۂ شہر

ن م راشد

افسانۂ شہر

ن م راشد

MORE BYن م راشد

    شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافر

    کہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ!

    دکھلائیں تمہیں ایک در بستہ کے اسرار کا خواب

    شہر کے شہر کا افسانہ وہ دل جن کے بیاباں میں

    کسی قطرۂ گم گشتہ کے ناگاہ لرزنے کی صدا نے یہ کہا:

    ''آؤ دکھلائیں تمہیں صبح کے ہونٹوں پہ تبسم کا سراب!''

    شہر کے شہر کا افسانہ وہی آرزوئے خستہ کے لنگڑاتے ہوئے پیر

    کہ ہیں آج بھی افسانے کی دزدیدہ و ژولیدہ لکیروں پہ رواں

    ان اسیروں کی طرح جن کے رگ و ریشہ کی زنجیر کی جھنکار

    بھی تھم جائے تو کہہ اٹھیں کہاں

    ''اب کہاں جائیں گے ہم

    جائیں اب تازہ و نادیدہ نگاہوں کے زمستاں میں کہاں؟''

    ان اسیروں کی طرح جن کے لیے وقت کی بے صرفہ سلاخیں

    نہ کبھی سرد نہ گرم اور نہ کبھی سخت نہ نرم

    نہ رہائی کی پذیرائی نہ اسیری ہی کی شرم

    شہر کے شہر کا افسانہ وہ روحیں جو سر پل کے سوا

    اور کہیں وصل کی جویا ہی نہیں

    پل سے جنہیں پار اترنے کی تمنا ہی نہیں

    اس کا یارا ہی نہیں!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY