اگر قریب سے دیکھو

چندر بھان خیال

اگر قریب سے دیکھو

چندر بھان خیال

MORE BYچندر بھان خیال

    اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تم

    جہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹا

    نہ کارواں نہ منازل نہ رہ گزر نہ سفر

    حیات جیسے کھڑا ہو کوئی شجر تنہا

    دلوں میں پیاس تڑپتی ہے رات دن اپنے

    بھری ہوئی ہے الم ناک یاس آنکھوں میں

    سیاہ بھوتوں کی مانند جاگ اٹھتے ہیں

    یہ بے سکوں سے مناظر اداس آنکھوں میں

    تمہیں ہے خوف کہ جوالا بھڑک اٹھے نہ کہیں

    میں سوچتا ہوں جلا دوں کسی طرح خود کو

    تمہیں ہے فکر کہ جینے کا آسرا ہو کوئی

    میں چاہتا ہوں مٹا دوں کسی طرح خود کو

    رقیق آگ نے سینوں کو راکھ کر ڈالا

    وجود کانپ رہے ہیں شکست کھائے ہوئے

    کوئی پہاڑ کوئی بن تلاش کرتے ہیں

    دماغ بار مصائب کا غم اٹھائے ہوئے

    پگھل رہے ہیں اصولوں کے آہنی پیکر

    حصار کرب کی سلگی ہوئی فصیلوں پر

    کچھ اس طرح ہیں شب و روز گرد آلودہ

    ٹنگے ہوں جیسے پرانے لباس کیلوں پر

    اگر قریب سے دیکھو تو دل کی بستی میں

    نہ حوصلے نہ امنگیں نہ گرمیاں باقی

    گناہ گار فضاؤں کی قتل گاہوں میں

    حقیقتوں کا پتہ ہے نہ داستاں باقی

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین,

    فہد حسین

    اگر قریب سے دیکھو فہد حسین

    مأخذ :
    • کتاب : Shoalon Ka Shajar (Pg. 42)
    • Author : Chander Bhan Khayal
    • مطبع : Sutoor Parkashan (1969)
    • اشاعت : 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے