اے غم دل کیا کروں

سید محمد جعفری

اے غم دل کیا کروں

سید محمد جعفری

MORE BYسید محمد جعفری

    INTERESTING FACT

    یہ نظم 1958 میں مارشل لا کے نفاذ پر لکھی گئی تھی

    اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھے

    ہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے

    دودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھے

    دل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میں

    کیوں نہ لیڈر بن کے ساری قوم کو بہکاؤں میں

    جب نہیں دھندا تو چندا ہی کروں اور کھاؤں میں

    اسکریننگ کی کمیٹی کے نہ ہاتھ آ جاؤں میں

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    کیوں نہ اڈیٹر بنوں اخبار گوہر بار کا

    اور قلم کو روپ دوں چلتی ہوئی تلوار کا

    ہاتھ میں شملہ ہو سب اشراف کی دستار کا

    مارشل لا میں مگر پہلا ہے ٹکڑا مار کا

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    سوچتا ہوں پھر کہ حج کر آؤں اسمگلر بنوں

    مال دین و مال دنیا کا بڑا ڈیلر بنوں

    ملک کے اندر بنوں یا ملک کے باہر بنوں

    الغرض جو کچھ بنوں میں فوج سے بچ کر بنوں

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    کیا خبر تھی قیمتیں یوں ہوں گی سستی ایک دن

    ''رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن''

    چور بازاری کی مٹ جائے گی ہستی ایک دن

    ہوگی شیورولیٹ پہ بھی ٹو لیٹ کی تختی ایک دن

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    بحر کے سینے سے سونا تک اگلوایا گیا

    گندم خلوت نشیں بازار میں لایا گیا

    اور ذخیرہ باز سے چکی میں پسوایا گیا

    نفع خوروں کا دوالہ تک نکلوایا گیا

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    ہائے کشکول گدائی لے کے اب جائے گا کون

    لال گندم لا کے ہم کالوں کو کھلوائے گا کون

    جس کو امریکی سور کھاتے تھے وہ کھائے گا کون

    ساتھ میں گندم کے مسٹر گھن کو پسوائے گا کون

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    غیر ملکی مال کو روتی ہیں اب تک بیبیاں

    اور ہر امپورٹ کے لائسنس کو ان کے میاں

    غیر بنکوں میں جو دولت ہے وہ آئے گی یہاں

    ''یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں''

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    یا میں سب کچھ چھوڑ دوں اور چور بازاری کروں

    زندگی کی فلم میں ایسی اداکاری کروں

    دونوں ہاتھوں سے کما کر عذر ناداری کروں

    جب حکومت ٹیکس مانگے آہ اور زاری کروں

    ''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''

    مآخذ:

    • کتاب : Shokhi-e-Tahrir (Pg. 120)
    • Author : Sayed Mohammad Jafri
    • مطبع : Malik Norani, Maktaba Daniyal Viktoria Chaimber, 20, Abdullah Haroon Road, Sadar Krachi (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY