اے زندگی

MORE BYمریم تسلیم کیانی

    اے زندگی

    تو اب تمہاری عمر کی بہاریں گزر گئیں

    اور خزاں کا موسم آنے والا ہے

    اچھا تو یہ بتا زندگی

    کہ چاند کی پریاں اب تک

    میرے آنگن میں روزانہ

    کیوں اترتی ہیں

    کیوں مجھے آسمانوں کی سیر کراتی ہیں

    میں اب تک رنگوں سے کیوں کھیلتی ہوں

    مجھے کائنات سے پرے

    ایک دنیا کیوں دکھائی دیتی ہے

    جہاں صرف پھول ہی پھول ہوتے ہیں

    اور میٹھے پانی کے آبشاروں میں

    میرا وجود بھیگتا ہے

    میں اوک بھر کر ان سے

    پانی کیوں پیتی ہوں اب تک

    مجھے پرندوں کی بولی کیوں سمجھ میں آتی ہے

    مجھے شرارت کرنا کیوں بھاتا ہے اب تک

    میں ہنسنا کیوں نہیں بھولی ہوں

    میرے اندر کی بچی کیوں اب تک

    اپنے ٹوٹے ہوئے کھلونوں سے کھیلتی ہے

    میرے حسین خواب کیوں نہیں چھوٹے اب تک

    زندگی اے زندگی

    مجھے یہ بتا

    کہ میں نے اب تک نفرت کرنا کیوں نہیں سیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY