ایسے نہیں ہوتا

اشفاق حسین

ایسے نہیں ہوتا

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    بس اک اپنے تحفظ کے لیے

    دنیا کو کتنا بے تحفظ کر دیا تم نے

    یہ دنیا وہ نہیں

    جو آج سے پہلے تھی

    یہ فرمان جاری کر دیا تم نے

    مگر تم کون سی دنیا میں رہتے ہو

    یہ دنیا تو وہی ہے

    جس میں جب چاہو

    تم اپنے حکم منواتے ہو

    طاقت کی زباں میں بات کرتے ہو

    تمہارے حکم کو جو ماننے میں دیر کرتے ہیں

    تم ان کو اپنی دہشت سے ڈراتے ہو

    شکستہ ہڈیوں کو آتشیں تنور کا ایندھن بناتے ہو

    جو مفلس ہیں انہیں تم اور بھی مفلس بناتے ہو

    یہ دنیا آج سے پہلے بھی

    کب محفوظ تھی اتنی

    مگر محفوظ تھے تم اپنی دیواروں کے اندر

    اور اس دیوار کی ایک اینٹ

    آج اپنی جگہ سے ہل گئی ہے

    صرف اک اینٹ

    اور قیامت مچ گئی ہے

    ذرا سی چوٹ کو

    حوا بنا رکھا ہے تم نے

    آسماں سر پر اٹھا رکھا ہے تم نے

    حساب خوں بہا کے نام پر

    دنیا میں ہنگامہ مچا رکھا ہے تم نے

    مگر اپنا حساب خوں بہا لینے سے پہلے

    گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

    صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

    جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY