اندیشے

کیفی اعظمی

اندیشے

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے

    دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے

    وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے

    رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا

    وہ کہاں اور کہاں کاہش غم، سوزش جاں

    اس کی رنگین نظر اور نقوش حرماں

    اس کا احساس لطیف اور شکست ارماں

    طعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہوگا

    جھک گئی ہوگی جواں سال امنگوں کی جبیں

    مٹ گئی ہوگی للک، ڈوب گیا ہوگا یقیں

    چھا گیا ہوگا دھواں، گھوم گئی ہوگی زمیں

    اپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہوگا

    دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گے

    اشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں گے

    بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے

    ایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا

    اس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہوگی

    مٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہوگی

    میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگی

    ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا

    بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گے

    غم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گے

    نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گے

    سر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا

    زلف ضد کر کے کسی نے جو ہٹائی ہوگی

    روٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگی

    برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگی

    رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY