اندھیری شب سے ایک لا حاصل

شمس الرحمن فاروقی

اندھیری شب سے ایک لا حاصل

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

    اندھیری شب کے شرمیلے معطر کان میں اس نے کہا وہ شخص

    دور افتادہ لیکن میرے دل کی طرح روشن ہے

    جو میرے پاؤں کے تلوے ہتھیلی کے گلابی گال میں

    کانٹا سا چبھتا ہے

    جو میرے جسم کی کھیتی پہ بارش کا چھلاوا ہے

    وہ جس کی آنکھ کی قاتل

    ہوس اک منتظر لیکن نہ ظاہر ہونے والے پھول کی مانند

    بے چینی میں رکھتی ہے مجھے وہ

    آنے والا ہے

    مگر وہ شخص اس شب بھی نہیں آیا

    بھلا ٹوٹی کلائی سے

    وہ سارے خواب سب وعدے ملاقاتوں کے پیمانے

    کہاں سنبھلیں

    بھلا بے نور آنکھوں میں وہ صورت

    جھم جھماتی تند جوش خون سے گرمی لب تک تمتماتی

    کس طرح رکتی

    اندھیری رات نے

    دیکھا نہ کچھ سننا ہی چاہا اس کے گوش نازک اور چشم سیہ معصوم ہوتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY