اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر

عباس اطہر

اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر

عباس اطہر

MORE BYعباس اطہر

    ''نئی سڑکوں کے نقشے'' کارخانے

    اونچے اونچے پل مرے منصوبے دیکھو اور کتابوں میں پڑھو''

    اس نے کہا۔۔۔ ''میرے بدن پر ہاتھ بھی پھیرو

    مگر سوراخ سے انگلی الگ رکھو''

    مگر اس کے بدن پر ہر طرف سوراخ ہی سوراخ ہیں

    انگلی الگ رکھو!

    تو کیا میں انگلیوں کو توڑ دوں؟

    میں انگلیوں کو توڑ دوں؟

    پھر کون تیرے حسن کی تفسیر لکھے گا؟ بتا!

    پھر یہ تسلسل رات دن کا

    چاند سورج کا اکیلے موسموں کا

    مسئلوں اور مشکلوں کا

    کیسے ٹوٹے گا؟ بتا!

    اس نے ہمیں ایک دوسرے سے چھپ کے رہنے کے لئے

    کپڑے دیئے اور خوب صورت گھر دیے

    اور بند کمروں میں زمینوں آسمانوں کی سبھی سچائیاں کہنے اور ان

    پر بحث کرنے اور منصوبے بنانے کی کھلی آزادی دی

    یارو! چلو سڑکوں پہ ننگے سیر کرنے جائیں

    شاید رسم چل نکلے

    مگر میرے قبیلے کا کوئی بھی مرد

    کپڑے پھاڑ کر گھر کو جلا کے

    ننگی ننگی باتیں کہنے کے لئے باہر نہ نکلا

    سب کو اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 77)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY