عرابچی سو گیا ہے

نصیر احمد ناصر

عرابچی سو گیا ہے

نصیر احمد ناصر

MORE BY نصیر احمد ناصر

    عرابچی سو گیا ہے

    طولانی فاصلوں کی

    تھکن سے مغلوب ہو گیا ہے

    خبر نہیں ہے اسے کہاں ہے

    بس ایک لمبے کٹے پھٹے

    ناتراش رستے پہ چوبی گاڑی

    ازل سے یوں ہی

    ابد کی جانب رواں دواں ہے

    ذرا سے جھٹکے سے

    چرچراتی ہے جب

    تو بوسیدگی کی لاکھوں تہوں میں لپٹا

    ہر ایک ذی روح چونکتا ہے

    عرابچی خواب دیکھتا ہے

    وہ شاہ زادی کا ہاتھ تھامے

    سنہری رتھ میں سوار ہو کر

    عجب جہانوں میں شبہ زمانوں میں

    کھو گیا ہے

    عرابچی سو گیا ہے.....!

    مآخذ:

    • کتاب : Arabchi so gia hai (Pg. 31)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : Sanjh Publications Pakistan (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY