گنگا رو رہی تھی

زبیر رضوی

گنگا رو رہی تھی

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    مجھے معلوم ہے

    تم نے مجھے بچپن سے پالا تھا

    بہت راتوں کو تم جاگے تھے

    اور تم نے مری آنکھوں میں اپنے خواب رکھے تھے

    کبھی جاتک کتھائیں داستانیں

    اور کبھی تاریخ کے قصے سنائے تھے

    مجھے حرفوں کو جب پہچاننا آیا تھا

    تم نے سب صحیفے اور وہ ساری کتابیں

    جو تمہارا زندگی بھر کا اثاثہ تھیں

    مجھے پڑھنے کو دی تھیں

    اور وہ تم تھے مجھے چاروں دشاؤں میں

    سفر کرنا سکھایا

    میں کبھی کاشی کبھی متھرا

    کبھی مکے مدینے گھومتا رہتا

    کبھی بغداد استنبول پہنچا

    اور کبھی میں نے سمرقند و بخارا میں قدم رکھا

    کبھی میں اصفہاں اور نجدوکوفے میں پھرا

    جب مدتوں کے بعد واپس لوٹ کر آیا تو

    گوتم جا چکے تھے

    رام اجودھیا میں نہیں تھے

    تم کسی اک قبر میں سوئے ہوئے تھے

    اور میرے ساتھ

    گنگا رو رہی تھی

    مآخذ:

    • کتاب : Sang-ge-Sada (Pg. 135)
    • Author : Zubair Razvi
    • مطبع : Zehne Jadid, New Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY