برف

MORE BYراج نرائن راز

    کل شب

    جب سورج نے

    اپنی آنکھیں موندیں

    اپنا دامن کھینچا

    اور ہوا کا سرپٹ گھوڑا باندھ دیا

    اور فلک پر اک جانب سے

    چادر مٹیالی سی تانی

    پریاں

    ہلکے سیمیں ان کے پر

    رفتار خراماں

    اتریں

    دھیرے

    دھیرے

    جیسے پر ہوں

    دوش ہوا پر

    اتریں

    پریاں

    مل کر

    رقصاں رقص کی لے مدھم سی

    آہٹ روشن شبنم سی

    لے ہلکی سر دھیما

    دھیما

    چاندی سی چادر میں پریاں

    سیمیں پریاں

    ایک تسلسل ایک ادا سے اتریں

    اتریں

    شاخ شجر پر

    چھت پر

    در پر

    فرش سیہ پر

    یہ سب روشن تھے اجلے تھے

    جیسے ابرق

    چپکے چپکے چھیڑ رہی تھیں

    شاخوں کے بربط کو

    جیسے نیند میں کھویا مطرب

    اپنی انگلی کی جنبش سے

    خواب آور نغمات جگائے

    ہاتھوں میں تھا ساز انوکھا

    لب پہ خموشی کے نغمے تھے

    رقصاں

    رقص کی لے مدھم سی

    رقص میں تھیں

    شب

    سیمیں پریاں

    فرش تھا اب اجلا اجلا سا

    شاخ شجر کا

    چھت کا

    در کا

    چاندی کا سا تھا پیراہن

    ان کے لمس میں اک جادو تھا

    ہر اک شے سے

    ایک انوکھی ہیروں جیسے آب تھی پیدا

    اونچا پیڑ صنوبر کا

    موہوم عصا ہاتھوں میں تھامے

    جشن شب کو دیکھ رہا تھا

    رنگت اس کی بدلی بدلی

    یوں گویا تھا

    میں نے دیکھا ہے

    رات کا راہی وقت سے پہلے

    اک میلی سی چادر اوڑھے

    گہری نیند میں ڈوبا

    ندی نالے گم صم

    جھرنے چپ چپ

    میں نے دیکھا

    اجلا اجلا خیمہ گل کا

    شاخ

    شجر کا

    چاندی کا سا تھا پیراہن

    بھرا ہوا تھا چاندی فر سے

    شب کا دامن

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY