برسات اور شاعر

عظیم الدین احمد

برسات اور شاعر

عظیم الدین احمد

MORE BY عظیم الدین احمد

    تھا درختوں کو ابھی عالم حیرت ایسا

    جیسے دلبر سے یکایک کوئی ہو جائے دو چار

    ڈالیاں ہلنے لگیں تیز ہوائیں جو چلیں

    پتے پتے میں نظر آنے لگی تازہ بہار

    سنسناہٹ ہوئی جھونکوں سے ہوا کے ایسی

    چھٹ گئیں ہوں کہیں لاکھوں ہی ہوائی یکبار

    رعد گرجا ارے وہ دیکھنا بجلی چمکی

    ہلکی ہلکی سی وہ پڑنے لگی بوندوں کی پھوار

    رات تاریک ہے آیا ہے امنڈ کر بادل

    میں اکیلا نہ کوئی یار نہ کوئی غم خوار

    سرد جھونکوں میں ہوا کے ہے لطافت اور دل

    اس کا خواہاں ہے نہیں ملنے کے جس کے آثار

    ایسی بے چینی خدایا نہ ہو دشمن کو نصیب

    اس سے بد تر نہ کسی کو ہو الٰہی آزار

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY