بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش

نصیر احمد ناصر

بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش

نصیر احمد ناصر

MORE BY نصیر احمد ناصر

    مجھ کو سونے دو

    صدیوں جیسی گہری لمبی نیند

    جس میں کوئی خواب نہ ہو

    مجھ کو سونے دو

    اس لڑکی کی نیند

    جو اپنی آنکھیں

    میری آنکھوں میں رکھ کر

    بھول گئی ہے!

    مجھ کو سونے دو

    ان لوگوں کی نیند

    جن کی آنکھوں میں

    بادل اور پرندے اڑتے ہیں

    دریا بہتے ہیں

    لیکن وہ پیاسے رہتے ہیں

    مجھ کو سونے دو

    چاروں سمت بچھے صحراؤ!

    میرے دل میں ایک سمندر ہے

    مجھ کو اس میں اپنے

    سارے خواب ڈبونے دو

    مجھ کو رونے دو!

    مجھ کو سونے دو!!

    مآخذ:

    • کتاب : Pani mein gum khawab (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY