بیگم اور شاعری

نشتر امروہوی

بیگم اور شاعری

نشتر امروہوی

MORE BYنشتر امروہوی

    ایک دن مجھ سے یہ فرمانے لگی بیوی مری

    میری سوتن بن گئی ہے آپ کی یہ شاعری

    وہ یہ کہہ کر مجھ سے کرتی ہے ہمیشہ احتجاج

    شاعری سے آپ کی ہوتا ہے مجھ کو اختلاج

    سوچتی ہوں کس طرح ہوگا ہمارا اب نباہ

    مجھ کو روٹی چاہئے اور آپ کو بس واہ واہ

    مجھ کو رہتی ہے سدا بچوں کے مستقبل کی دھن

    آپ بیٹھے کر رہے ہیں فاعلاتن فاعلن

    رات کافی ہو چکی ہے نیند میں بچے ہیں دھت

    آپ یوں ساکت ہوئے بیٹھے ہیں جیسے کوئی بت

    میں یہ کہتی ہوں چکا دیجے جو پچھلا قرض ہے

    آپ اپنی دھن میں کہتے ہیں کہ مطلع عرض ہے

    میں یہ کہتی ہوں کہ دیکھا کیجئے موقع محل

    چھیڑ دیتے ہیں کہیں بھی غیر مطبوعہ غزل

    مان لیتی ہوں میں چلئے آپ ہیں شاعر گریٹ

    شاعری سے بھر نہیں سکتا مگر بچوں کا پیٹ

    اپنے ہندستان میں مردہ پرستی عام ہے

    جتنے شاعر مر چکے ہیں بس انہیں کا نام ہے

    جب تلک زندہ رہے پیسے نہ تھے کرنے کو خرچ

    مر گئے تو ہو رہی ہے مرزا غالبؔ پر ریسرچ

    میں یہ بولا بند کر اپنا یہ بے ہودہ کلام

    تجھ کو کیا معلوم کیا ہے ایک شاعر کا مقام

    جھوٹ ہے شامل تصنع ہے نہ کچھ اس میں دروغ

    شاعری سے پا رہی ہے آج بھی اردو فروغ

    ہوں ثنا خواں میں فگارؔ و ساغرؔ و شہبازؔ کا

    رخ بدل ڈالا جنہوں نے شعر کے پرواز کا

    مأخذ :
    • کتاب : Post Martum (Pg. 76)
    • Author : Nashtar Amrohvi
    • مطبع : M.R. Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY