بھوپال تال کے نام
اے بڑے تالاب
اے آبی ذخیرے کے امیں
تیرے اس شفاف پانی میں یہ کیا تاثیر ہے
کیوں ٹھہر جاتا ہے رہرو دیکھ کر تیرا جمال
کیوں پکڑ لیتے ہیں قدموں کو ترے یہ سبزہ زار
آب لرزیدہ میں تیرے کیا لکھا ہے یہ بتا
جس کا اک اک حرف پڑھنے میں گزر جاتی ہے عمر
پھر بھی کھلتا ہی نہیں ہے راز تیرے حسن کا
پھر بھی جاتا ہی نہیں ہے تیرا یہ آبی طلسم
اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں
کتنی صدیوں کی تمازت تیرے اس پانی میں ہے
کتنے موسم کروٹیں لیتے ہیں لہروں میں تری
کتنی تہذیبوں کے ضامن ہیں ترے یہ مرغزار
اے بڑے تالاب کچھ تو ہی بتا کیا رمز ہے
کیوں تجھے گھیرے ہوئے ہیں یہ پہاڑی سلسلے
کیوں سجا رکھے ہیں تو نے ہر طرف یہ سبزہ زار
کس لئے ہوتی ہے خلقت تیری وسعت پر نثار
تو نہ جیجوں ہے نہ ہے دریائے ٹیمز
پھر بھی ساحل پر ترے قرباں ہے حسن بے کراں
پھر بھی سینے پر ترے رقصاں ہیں کتنی کشتیاں
پھر بھی کیف زندگی ہے تیری موجوں سے عیاں
اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں
تجھ کو کچھ معلوم بھی ہے اپنی تاریخ حسیں
کتنی تہذیبوں کا شاہد ہے ترا آب رواں
کتنے جذبوں کی طہارت تیری ان لہروں میں ہے
کتنے موسم ہو گئے شاداب آنچل سے ترے
قافلے کتنے ترے دامن میں آ کر بس گئے
کیسے کیسے گوہر نایاب تیرے عشق میں
ہو کے بے قیمت تری آغوش میں گم ہو گئے
آج ان کا نام لیوا بھی یہاں کوئی نہیں
اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں
تیرے پہلو میں ہیں خوابیدہ وہ اہل عشق بھی
جن کے تیشے نے تھے کاٹے جہل کے کوہ گراں
جن کی ہمت نے بسائی تھیں یہاں پر بستیاں
بستیوں میں پیار کے چشمے ہی تھے ہر سو رواں
جن پہ قابض ہیں مگر اب وقت کی سفاکیاں
وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد تو بھی ہے
وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد میں بھی ہوں
پھر بھی اے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں
یوں تو تیرا یہ جواں پیکر بظاہر تال ہے
درحقیقت تو وقار و عظمت بھوپال ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.