Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بھوپال تال کے نام

ضیا فاروقی

بھوپال تال کے نام

ضیا فاروقی

MORE BYضیا فاروقی

    اے بڑے تالاب

    اے آبی ذخیرے کے امیں

    تیرے اس شفاف پانی میں یہ کیا تاثیر ہے

    کیوں ٹھہر جاتا ہے رہرو دیکھ کر تیرا جمال

    کیوں پکڑ لیتے ہیں قدموں کو ترے یہ سبزہ زار

    آب لرزیدہ میں تیرے کیا لکھا ہے یہ بتا

    جس کا اک اک حرف پڑھنے میں گزر جاتی ہے عمر

    پھر بھی کھلتا ہی نہیں ہے راز تیرے حسن کا

    پھر بھی جاتا ہی نہیں ہے تیرا یہ آبی طلسم

    اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں

    کتنی صدیوں کی تمازت تیرے اس پانی میں ہے

    کتنے موسم کروٹیں لیتے ہیں لہروں میں تری

    کتنی تہذیبوں کے ضامن ہیں ترے یہ مرغزار

    اے بڑے تالاب کچھ تو ہی بتا کیا رمز ہے

    کیوں تجھے گھیرے ہوئے ہیں یہ پہاڑی سلسلے

    کیوں سجا رکھے ہیں تو نے ہر طرف یہ سبزہ زار

    کس لئے ہوتی ہے خلقت تیری وسعت پر نثار

    تو نہ جیجوں ہے نہ ہے دریائے ٹیمز

    پھر بھی ساحل پر ترے قرباں ہے حسن بے کراں

    پھر بھی سینے پر ترے رقصاں ہیں کتنی کشتیاں

    پھر بھی کیف زندگی ہے تیری موجوں سے عیاں

    اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں

    تجھ کو کچھ معلوم بھی ہے اپنی تاریخ حسیں

    کتنی تہذیبوں کا شاہد ہے ترا آب رواں

    کتنے جذبوں کی طہارت تیری ان لہروں میں ہے

    کتنے موسم ہو گئے شاداب آنچل سے ترے

    قافلے کتنے ترے دامن میں آ کر بس گئے

    کیسے کیسے گوہر نایاب تیرے عشق میں

    ہو کے بے قیمت تری آغوش میں گم ہو گئے

    آج ان کا نام لیوا بھی یہاں کوئی نہیں

    اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں

    تیرے پہلو میں ہیں خوابیدہ وہ اہل عشق بھی

    جن کے تیشے نے تھے کاٹے جہل کے کوہ گراں

    جن کی ہمت نے بسائی تھیں یہاں پر بستیاں

    بستیوں میں پیار کے چشمے ہی تھے ہر سو رواں

    جن پہ قابض ہیں مگر اب وقت کی سفاکیاں

    وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد تو بھی ہے

    وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد میں بھی ہوں

    پھر بھی اے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں

    یوں تو تیرا یہ جواں پیکر بظاہر تال ہے

    درحقیقت تو وقار و عظمت بھوپال ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے