چڑیا گھر

رئیس فروغ

چڑیا گھر

رئیس فروغ

MORE BY رئیس فروغ

    چڑیا گھر میں بسنے والی

    کیسا مزاج عالی ہے

    منو بھیا پوچھ رہے ہیں

    کیا کوئی پنجرہ خالی ہے

    دوڑ میں سب سے اول چیتا

    جنگل کی ہر ریس میں جیتا

    جلدی جلدی بول رے ساتھی

    کچا پپیتا پکا پپیتا

    جنگل کے سلطان کو دیکھو

    شیر ببر کی شان کو دیکھو

    ایسا بہادر کوئی نہیں ہے

    دل والے مہمان کو دیکھو

    بھاگ رہا ہے ہانپ رہا ہے

    ڈر کے مارے کانپ رہا ہے

    بزدل گیدڑ نام ہے اس کا

    دیکھو کیسا بھانپ رہا ہے

    ہاتھی سونڈ ہلانے والے

    لمبے دانت دکھانے والے

    دریا دریا جنگل جنگل

    بھاری بوجھ اٹھانے والے

    باتوں میں بے باک بہت ہے

    سب پر اس کی دھاک بہت ہے

    بچو اس کا نام بتاؤ

    یہ بی بی چالاک بہت ہے

    بن مانس کے کھیل عجب ہیں

    سرکس جیسے سارے ڈھب ہیں

    ایسے کھیل کہاں سے سیکھے

    دیکھنے والے حیراں سب ہیں

    ناچ دکھانے والے بھالو

    تو کالا تیرا نام ہے کالو

    کس سے ہے تری رشتہ داری

    تو آخر ہے کس کا خالو

    ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ بندر آئے

    خوشی خوشی سسرال کو جائے

    چھن چھن چھن چھن ناچے بندریا

    جیسے مداری چاہے نچائے

    زیبرا دیکھو دھاریوں والا

    پایا جس نے روپ نرالا

    صبح بھی اس کی شام بھی اس کی

    آدھا گورا آدھا کالا

    یہ کچھوے سے ہارنے والا

    جھوٹی شیخی بگھارنے والا

    آخر منہ کی کھا جاتا ہے

    اوروں کو للکارنے والا

    سانپ جو پل پل بل کھاتے ہیں

    بین بجے تو لہراتے ہیں

    لہرائیں تو جاگے سوئے

    لاکھوں رنگ نظر آتے ہیں

    کنٹھی پہنے طوطے آئے

    ہرے ہرے سے پر پھیلائے

    مٹھو بیٹا پڑھ لیتے ہیں

    کوئی ان کو اگر پڑھائے

    سارس دیکھو کتنا بڑا ہے

    بادل جیسے آن پڑا ہے

    مچھلی آئے اور پکڑ لوں

    پانی میں چپ چاپ کھڑا ہے

    وہ دیکھو وہ آیا زرافہ

    جیسے کوئی بیرنگ لفافہ

    ہم دیتے ہیں اس کو دعائیں

    گردن میں ہو اور اضافہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY