Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دہشت گرد شاعر

ذیشان ساحل

دہشت گرد شاعر

ذیشان ساحل

MORE BYذیشان ساحل

    ایک خوش گوار دن

    جب لوگ اپنے دفتر اور بچے

    اسکول وقت پر پہنچ جاتے ہیں

    دہشت گرد شاعر اپنے خوابوں کی بندوق لے کر

    ہوائی فائرنگ شروع کر دیتے ہیں

    کوئی ہلاک نہیں ہوتا کوئی زخمی نہیں ہوتا

    کسی کو ڈر نہیں لگتا

    کسی درخت سے ایک پتا تک نہیں گرتا

    کسی کھڑکی کا شیشہ بھی نہیں ٹوٹتا

    شاعر اپنا کام جاری رکھتے ہیں مگر

    شام ہونے تک کسی دیوار میں ایک سوراخ تک نہیں کر پاتے

    کسی دروازے پر نشان بھی نہیں ڈال پاتے

    لوگ حسب معمول گھروں کو واپس آتے ہیں

    بچے راستوں میں کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن کسی کو

    خوابوں کے خالی کارتوس نہیں ملتے

    دہشت گرد شاعر کہیں نظر نہیں آتے

    جب رات ہوتی ہے تو اچانک اندھیرے میں کبھی

    روشنی کی لکیریں آسمان کی طرف جاتی نظر آتی ہیں

    اسی معمولی چمک میں ستارے اپنا راستہ بناتے ہیں

    اسی راستے پر

    دہشت گرد شاعر اپنی بندوق لیے زندگی بھر پریڈ کرتے رہتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : saarii nazmen (Pg. 487)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے