دلدل

MORE BYکرشن موہن

    مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدل

    کہ محسوس ہونے لگا ہے

    مری زندگی میں رہے گی ہمیشہ ہوس کار فرما

    ہو سرما کہ گرما

    کبھی پیاس بجھتی نہیں ہے

    پیوں جتنی مے

    فسون ملاقات ہے باعث بے قراری

    جنون ملاقات رہتا ہے طاری

    کہ اکثر ملاقات ہوتی ہے لیکن ملاقات کو جی ترستا ہے پیہم

    کئی بار اس کیفیت پر ہنسا ہوں

    ہے یہ کیسی دلدل کہ جس میں پھنسا ہوں

    ابھرتا ہوں میں اس کی گہرائی سے بھی

    مگر جیسے پھر ڈوب جانے کی خاطر

    غضب ہے ہوس کا یہ کس بل

    مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY