دشمنوں کے درمیان صلح

اعجاز گل

دشمنوں کے درمیان صلح

اعجاز گل

MORE BY اعجاز گل

    برگ آوارہ صدا آئے ہیں

    کوئی آوازۂ پا لائے ہیں

    تیرے پیغام رساں ہیں شاید

    اور پیمان وفا لائے ہیں

    گفتگو نرم ہے لہجہ دھیما

    اب کے انداز جدا لائے ہیں

    اک ندامت بھی ہے پچھتاوا بھی

    خفت جرم و جفا لائے ہیں

    آنکھ میں اشک پشیمانی کے

    ہونٹ پر حرف دعا لائے ہیں

    سارے سامان رفوگری کے

    جیب و دامن میں اٹھا لائے ہیں

    مرہم زخم کے انبار کے ساتھ

    پارۂ خاک شفا لائے ہیں

    شاخ زیتون بھی عمامے بھی ہیں

    اور عبائیں بھی سلا لائے ہیں

    حجر اسود نے چھوا ہے جس کو

    ایک ایسی بھی ردا لائے ہیں

    کچھ مدینے کی کھجوروں کے طبق

    کاسۂ سر پہ سجا لائے ہیں

    ایک مشکیزۂ آب زم زم

    پشت نازک پہ اٹھا لائے ہیں

    اگلے پچھلے سبھی مقتولوں کا

    گویا کہ خون بہا لائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY