ڈسٹ بن

ساقی فاروقی

ڈسٹ بن

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    صبح کے جگ مگ سورج کو

    شام کے نارنجی بادل میں

    کیوں گہناتی ہو

    وہ کیا اندیشہ ہے

    جس کے بڑھتے قدموں کی دھمک سنی

    اور تم نے اپنے آنسو اپنے اندر گرا لیے

    اپنی روح میں نوحے جمع کیے

    اور نسیاں کی ڈسٹ بن میں پھینک دئیے

    وہ کون سا مجرم درد ہے

    جس کو دل کے شب خانوں میں چھپائے

    جس کے نادیدہ شعلوں سے نظر جلائے

    بیٹھی ہو

    چور ذہن کے

    پچھلے شیلف پے

    تہہ کرکے مجھے مت رکھو

    مجھ سے جان چھڑانی ہو تو

    مجھے شعور کے شیش محل میں زندہ کرو؛

    مجھے زندہ کرو

    مرے ہونے کا اقرار کرو

    مری طاقت سے انکار کرو

    مجھے ماردو؛؛

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ڈسٹ بن نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY