ایک بھولی ہوئی یاد

سلیم کوثر

ایک بھولی ہوئی یاد

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    دلچسپ معلومات

    (جنوری؍1973)

    تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیں

    میں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھا

    تم نے مجھ سے عہد لیا تھا

    میں نے بھی اک بات کہی تھی

    تم نے میری سب تصویریں واپس دے کر

    اپنے خط مجھ سے مانگے تھے

    لیکن آج رسالے میں اپنا اک شعر تمہارے نام سے دیکھا ہے

    تو سوچ رہا ہوں

    چہروں کی پہچان ادھوری رہ جائے

    تو یادیں آئنہ بن جاتی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے