ایک دھندلی یاد

تبسم کاشمیری

ایک دھندلی یاد

تبسم کاشمیری

MORE BY تبسم کاشمیری

    بارشیں اس کے بدن پر

    زور سے گرتی رہیں

    اور وہ بھیگی قبا میں

    دیر تک چلتی رہی

    سرخ تھا اس کا بدن

    اور سرخ تھی اس کی قبا

    سرخ تھی اس دم ہوا

    بارشوں میں جنگلوں کے درمیاں چلتے ہو

    بھیگتے چہرے کو یا اس کی قبا کو دیکھتے

    بانس کے گنجان رستوں پہ کبھی بڑھتے ہوئے

    اس کی بھیگی آنکھ میں کھلتی دھنک تکتے ہوئے

    اور کبھی پیپل کے گہرے سرخ سایوں کے تلے

    اس کے بھیگے ہونٹ پہ کچھ تتلیاں رکھتے ہوئے

    بارشوں میں بھیگتے لمحے اسے بھی یاد ہیں

    یاد ہیں اس کو بھی ہونٹوں پہ سجی کچھ تتلیاں

    یاد ہے مجھ کو بھی اس کی آنکھ میں کھلتی دھنک

    مآخذ:

    • کتاب : Prindey,phool taalab (Pg. 157)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY