ایک لڑکی

زہرا نگاہ

ایک لڑکی

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    کیسا سخت طوفاں تھا

    کتنی تیز بارش تھی

    اور میں ایسے موسم میں

    جانے کیوں بھٹکتی تھی

    وہ سڑک کے اس جانب

    روشنی کے کھمبے سے!

    سر لگائے استادہ

    آنے والے گاہک کے

    انتظار میں گم تھی!

    خال و خد کی آرائش

    بہہ رہی تھی بارش میں

    تیر نوک مژگاں کے

    مل گئے تھے مٹی میں

    گیسوؤں کی خوش رنگی

    اڑ رہی تھی جھونکوں میں

    میں نے دل میں یہ سوچا

    آب و باد کا ریلا!

    اس کو راکھ کر دے گا

    یہ سجا بنا چہرہ!

    کیا ڈراؤنا ہوگا

    پھر بھی اس کو لے جانا

    آنے والے گاہک کا

    اپنا حوصلہ ہوگا

    بارشوں نے جب اس کا

    رنگ و روپ دھو ڈالا

    میں نے ڈرتے ڈرتے پھر

    اس کو غور سے دیکھا

    سیدھا سادہ چہرہ تھا

    بھولا بھالا نقشہ تھا

    رنگ کم سنی جس پر

    کیسے دھل کے آیا تھا

    زرد پھول سا پتا

    گیسوؤں میں الجھا تھا

    شبنمی سا اک قطرہ

    آنکھ پر لرزتا تھا

    راکھ کی جگہ اس جا

    اک دیا سا جلتا تھا

    مجھ کو یوں لگا ایسے!

    جیسے میری بیٹی ہو

    میری ناز کی پالی

    میری کوکھ جائی ہو

    ڈال سے بندھا جھولا

    طاق میں سجی گڑیاں

    گھر میں چھوڑ آئی ہو

    تیز تیز چلنے پر

    میں نے اس کو ٹوکا ہو

    ہاتھ تھام لینے پر!

    میرا اس کا جھگڑا ہو

    کھو گئی ہو میلے میں

    بہہ گئی ہو ریلے میں

    اور پھر اندھیرے میں

    اپنے گھر کا دروازہ

    خود نہ دیکھ پائی ہو!

    دفعتاً یہ دل چاہا

    اس کو گود میں بھر لوں

    لے کے بھاگ جاؤں میں

    ہاتھ جوڑ لوں اس کے

    چوم لوں یہ پیشانی!

    اور اسے مناؤں میں

    پھر سے اپنے آنچل کا

    گھونسلہ بناؤں میں

    اور اسے چھپاؤں میں

    مأخذ :
    • کتاب : sham ka pahla tara (Pg. 100)
    • Author : Zehra Nigah
    • اشاعت : 1980

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY