ایک نظم

احمد ندیم قاسمی

ایک نظم

احمد ندیم قاسمی

MORE BY احمد ندیم قاسمی

    چھٹپٹے کے غرفے میں

    لمحے اب بھی ملتے ہیں

    صبح کے دھندلکے میں

    پھول اب بھی کھلتے ہیں

    اب بھی کوہساروں پر

    سر کشیدہ ہریالی

    پتھروں کی دیواریں

    توڑ کر نکلتی ہے

    اب بھی آب زاروں پر

    کشتیوں کی صورت میں

    زیست کی توانائی

    زاویے بدلتی ہے

    اب بھی گھاس کے میداں

    شبنمی ستاروں سے

    میرے خاکداں پر بھی

    آسماں سجاتے ہیں

    اب بھی کھیت گندم کے

    تیز دھوپ میں تپ کر

    اس غریب دھرتی کو

    زر فشاں بناتے ہیں

    سائے اب بھی چلتے ہیں

    سورج اب بھی ڈھلتا ہے

    صبحیں اب بھی روشن ہیں

    راتیں اب بھی کالی ہیں

    ذہن اب بھی چٹیل ہیں

    روحیں اب بھی بنجر ہیں

    جسم اب بھی ننگے ہیں

    ہاتھ اب بھی خالی ہیں

    اب بھی سبز فصلوں میں

    زندگی کے رکھوالے

    زرد زرد چہروں پر

    خاک اوڑھے رہتے ہیں

    اب بھی ان کی تقدیریں

    منقلب نہیں ہوتیں

    منقلب نہیں ہوں گی

    کہنے والے کہتے ہیں

    گردشوں کی رعنائی

    عام ہی نہیں ہوتی

    اپنے روز اول کی

    شام ہی نہیں ہوتی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ایک نظم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY