ایک نظم روز آتی ہے

عذرا عباس

ایک نظم روز آتی ہے

عذرا عباس

MORE BYعذرا عباس

    وہ آتی ہے

    روز میرے بہت قریب

    مجھے سہلاتی ہے

    گدگداتی ہے

    اٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔

    میں حیرت اور خوشی سے

    اسے دیکھتی ہوں

    تم کب آئیں؟

    ابھی۔۔۔ ابھی تو آئی ہوں۔۔۔

    وہ میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیتی ہے

    میرے پستانوں سے کھیلتی ہے

    میرے ہونٹوں کو چوستی ہے

    میری ناف کے نیچے

    بہت نیچے۔۔۔

    میری سانس اوپر کی اوپر رہ جاتی ہے

    میں کنواریوں کی طرح

    تلملاتی ہوں

    بل کھاتی ہوں

    وہ مجھے اٹھاتی ہے

    میرے کپڑے ایک ایک کر کے اتارتی ہے

    وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

    ہنستی ہے

    اٹھو۔۔۔

    میں بڑبڑاتی رہتی ہوں

    ایسی ہی بے سدھ

    حیرت سے اور خوشی سے

    اٹھو۔۔۔

    وہ میری گردن میں بانہیں ڈال کر

    کہتی ہے

    وہ مجھے دور سے دیکھتی ہے

    اور کینوس پر مری مادر زاد

    تصویر بناتی ہے

    میں بے سدھ پڑی رہتی ہوں

    اس ڈر سے کہ کہیں وہ چلی نہ جائے

    میں اسے ڈبونا چاہتی ہوں

    ایک ہی وار پر اس پر چڑھ دوڑنا

    اس پر بلبلا کر حملہ کرنا

    میں بھی چاہتی ہوں۔۔۔ اسے ایسے ہی

    اپنی گرفت میں لے آؤں

    لیکن اس سے پہلے کہ

    میں حرکت کروں

    وہ چھم چھم کرتی

    کھڑکی یا دروازے سے باہر

    بھاگ جاتی ہے

    میں بے سدھ

    حیرت اور خوف سے

    اور ملامت سے

    آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی

    رہتی ہوں

    وہ چلی جاتی ہے

    روز ایسا ہی ہوتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 88)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY