فن کار

ساحر لدھیانوی

فن کار

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے

    آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں

    آج دکان پہ نیلام اٹھے گا ان کا

    تو نے جن گیتوں پہ رکھی تھی محبت کی اساس

    آج چاندی کے ترازو میں تلے گی ہر چیز

    میرے افکار مری شاعری میرا احساس

    جو تری ذات سے منسوب تھے ان گیتوں کو

    مفلسی جنس بنانے پہ اتر آئی ہے

    بھوک تیرے رخ رنگیں کے فسانوں کے عوض

    چند اشیائے ضرورت کی تمنائی ہے

    دیکھ اس عرصہ گہہ محنت و سرمایہ میں

    میرے نغمے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے

    تیرے جلوے کسی زردار کی میراث سہی

    تیرے خاکے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے

    آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں

    میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے

    RECITATIONS

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    فن کار حمیدہ بانو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY