فسانۂ آدم

جمیلؔ مظہری

فسانۂ آدم

جمیلؔ مظہری

MORE BYجمیلؔ مظہری

    میں تھا ضمیر مشیت میں ایک عزم جلیل

    ہنوز شوق کی کروٹ بھی لی نہ تھی میں نے

    کہ دفعتاً متحرک ہوئے لب تخلیق

    پکڑ لی صورت ظاہر وجود کی میں نے

    وہ صبح عالم حیرت وہ جلوہ زار بہشت

    ہوا چمن کی لگی آنکھ کھول دی میں نے

    وہ تربیت گاہ ذوق نظر، وہ وادئ نور

    جہاں سے پائی محبت کی روشنی میں نے

    وہ عنفوان تمنا وہ ابتدائے جنوں

    وہ اک خلش جسے سمجھا تھا زندگی میں نے

    کیا سرور نے اک عالم دگر پیدا

    چرا کے پی جو مۓ سرکش خودی میں نے

    خودی کے نشے میں اللہ رے بے خودی میری

    بدن سے چادر عصمت بھی پھینک دی میں نے

    ہوا حدود نظر سے نکل کے آوارہ

    ہوائے شوق میں جنت بھی چھوڑ دی میں نے

    فرشتے رہ گئے حیرت سے دیکھتے مجھ کو

    نہ کی قبول مشیت کی رہبری میں نے

    دلیل راہ بنی اپنی گرمئ پرواز

    کہ طاقت پر جبریل چھین لی میں نے

    بڑھیں ستاروں کی دنیائیں میرے لینے کو

    اتر کے عرش سے نیچے نظر جو کی میں نے

    مگر زمیں کی کشش نے سوئے زمیں کھینچا

    کیا پسند یہ زندان عنصری میں نے

    جگہ ملی جو تڑپنے کی بے قراری کو

    تو پھر حدود میں وسعت کی داد دی میں نے

    ہوا تلاطم ہستی بہ عالم ذرات

    چھڑک دی خاک بیاباں پہ زندگی میں نے

    نمو کے جوش سے سودائے رنگ و بو نکلا

    زمیں کے دل کی تمنا نکال دی میں نے

    ہوئیں جہان عمل میں شریعتیں پیدا

    خدا کے نام پہ برپا جو کی خودی میں نے

    کبھی جلائی اندھیرے میں شمع علم و عمل

    کبھی بجھا دی ہدایت کی روشنی میں نے

    کبھی بگاڑ کے رکھ دیں ثواب کی شکلیں

    کبھی بدل دی حقیقت گناہ کی میں نے

    بڑھا تو رہ گیا پیچھے مرے زمانۂ حال

    رکا تو وقت کی رفتہ روک دی میں نے

    زمیں پہ شوق کے فتنے بچھا دیے ہر سو

    فضا میں نیند کی مستی بکھیر دی میں نے

    کبھی جگا دی قیامت نفس کی ٹھوکر سے

    اٹھا کے صور سرافیل زندگی میں نے

    جنوں کے جوش میں پردے نظر کے چاک کیے

    نقاب نوچ کے فطرت کی پھینک دی میں نے

    قبائے لیلئ تہذیب چاک کر ڈالی

    ردائے مریم عصمت اتار لی میں نے

    مزاج آتش سوزاں کو کر دیا ٹھنڈا

    مچا دی بزم عناصر میں کھلبلی میں نے

    لیا شہنشۂ خاور سے روشنی کا خراج

    کیا اسیر طبیعت کو برق کی میں نے

    بہ انقلاب طبیعت مزاج آہن کو

    ہوا کی گرمیٔ پرواز بخش دی میں نے

    بلندیوں کا تصور بھی رہ گیا پیچھے

    پہنچ کے اتنی بلندی پہ سانس لی میں نے

    ٹھٹک گئیں جو نگاہیں قریب ھجلۂ قدس

    پس حجاب ادب یہ صدا سنی میں نے

    کہ اے حریف مشیت بہ وعدہ گاہ ازل

    ٹھہر ٹھہر تری پرواز دیکھ لی میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY